ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / 25؍ سال بعد11؍ مسلم نوجوانوں کی بھساول ۔ناسک ٹاڈا مقدمہ سے باعزت بر ی، ریاستی دفتر پہونچ کر جمعیۃ علماء کا شکریہ ادا کیا 

25؍ سال بعد11؍ مسلم نوجوانوں کی بھساول ۔ناسک ٹاڈا مقدمہ سے باعزت بر ی، ریاستی دفتر پہونچ کر جمعیۃ علماء کا شکریہ ادا کیا 

Thu, 28 Feb 2019 23:49:32    S.O. News Service

ممبئی 28؍ فروری(ایس او نیوز؍پریس ریلیز) عدالتوں کے چکر لگاتے لگاتے ہماری چپلیں گھس گئیں اور ہم جوانی سے بڑھاپے کو پہنچ گئے بالآخیر جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) کی کوششوں سے25 ؍ سالوں کے طویل انتظار کے بعد ہمیں انصاف حاصل ہوا نیز اب ہماری کوشش ہوگی کہ بھساول شہر میں جمعیۃ علماء کی شاخ قائم کرکے عوامی خدمت انجام دیں، ان خیالات کا اظہار آج دہشت گردی کے الزامات سے 25 ؍سالوں بعد باعزت بری ہونے والے ملزمین نے دفتر جمعیۃ علماء پہنچ کر صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا مستقیم احسن اعظمی، سیکریٹری قانونی امداد کمیٹی گلزار اعظمی ، سینئر ایڈوکیٹ شریف شیخ، معاون وکلاء انصار تنبولی، شاہد ندیم و دیگر سے ملاقات کے دوران کیا ۔

دوران ملاقات ملزمین نے انتہائی جذباتی انذاز میں کہا کہ گذشتہ دو دنوں سے وہ ناسک میں ان کے مقدمہ کے فیصلہ کا انتظار کررہے تھے اور جس وقت کل دیر شام فیصلہ آیا انہوں نے طئے کرلیا تھا کہ بجائے اپنے گھر جانے کے وہ ممبئی پہنچ کر ذمہ د اران جمعیۃ علماء اور دفاعی وکلاء کا شکریہ ادا کریں گے کیونکہ ان کی کوششوں سے آج انہیں انصاف حاصل ہوا۔

مقدمہ سے باعزت بری ملزمین نے کہا کہ دفاعی وکلاء کے لئے یہ آسان نہیں تھاکہ مقدمہ کی ہر سماعت پرممبئی سے ناسک کا سفر کرکے ان کے مقدمہ کی پیروی کرنا لیکن انہوں نے ہمارے مقدمہ کو نہایت دلجمعی سے لڑا جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔

اس موقع پر گلزار اعظمی نے ملزمین سے درخواست کی کہ اب جبکہ ان کی پیشانی پر سے دہشت گردی کاالزام ختم ہو چکا ہے انہیں جمعیۃ علماء سے جڑ کررفاہی کاموں میں اپنے آپ کو پیش کرنا چاہئے ۔

گلزار اعظمی نے دفاعی وکلاء کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ایماندارانہ کوششوں سے ہی یہ ممکن ہوپایا کہ آج عدالت کو تمام ملزمین کو باعزت بری کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ 28؍ مئی 1994ء کو تحقیقاتی دستہ نے مہاراشٹر اور ملک کے دیگر صوبوں کے مختلف شہروں سے اعلی تعلیم یافتہ ۱۱؍ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 153(A) 120(B)اور ٹاڈا قانون کی دفعات3(3)(4)(5), 4(1)(4) کے تحت مقدمہ درج کیا تھا اور ان پرالزام عائد کیا تھا کہ وہ بابری مسجد کی شہادت کا بدلہ لینا چاہتے تھے جس کے لیئے انہوں نے کشمیر جاکر دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کی ٹریننگ حاصل کی تھی۔تحقیقاتی دستہ نے ملزمین جمیل احمد عبداللہ خان، محمد یونس محمد اسحاق، فاروق خان نذیر خان، یوسف خان گلاب خان، ایوب خان اسماعیل خان، وسیم الدین شمش الدین، شیخ شفیع شیخ عزیز، اشفاق سید مرتضی میر، ممتاز سید مرتضی میر، محمد ہارون محمد بفاتی اور مولانا عبدالقدیر حبیبی کو بھساول الجہاد نامی تنظیم کا رکن بتایا تھا اور ان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ناسک اور بھساول میں مسلمانوں کو جہاد کرنے پر اکسا رہے تھے اور انہوں نے سرکاری عمارتوں سمیت دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ 


Share: